Posts

سیرتِ رسول ﷺ – باب 13: شعبِ ابی طالب کا محاصرہ

Image
 جب قریش نے دیکھا کہ نہ ظلم کامیاب ہو رہا ہے اور نہ ہی دنیاوی لالچ، تو انہوں نے ایک انتہائی سخت قدم اٹھایا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے خاندان کو سماجی اور معاشی طور پر مکمل بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ اسلام کی دعوت کو دبایا جا سکے۔ 🔹 بائیکاٹ کا اعلان قریش کے سرداروں نے ایک تحریری معاہدہ تیار کیا جس کے تحت: بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب سے ہر قسم کا تعلق ختم خرید و فروخت پر مکمل پابندی شادی بیاہ اور میل جول منع اس معاہدے کو خانۂ کعبہ میں لٹکا دیا گیا تاکہ سب قبائل اس کی پابندی کریں۔ 🔹 شعبِ ابی طالب میں محاصرہ اس بائیکاٹ کے بعد رسول اللہ ﷺ، حضرت ابو طالبؓ اور خاندانِ بنی ہاشم شعبِ ابی طالب میں محصور ہو گئے۔ یہ وادی تنگ اور دشوار گزار تھی، جہاں: خوراک کی شدید کمی فاقوں کی نوبت بچوں کے رونے کی آوازیں تک پہنچ گئیں۔ تین سال تک یہ سخت آزمائش جاری رہی۔ 🔹 صبر و استقامت کی مثال ان سخت حالات کے باوجود: رسول اللہ ﷺ نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا ایمان میں کوئی کمزوری نہ آئی دعوتِ حق کا یقین مضبوط رہا یہ دور ثابت کرتا ہے کہ حق کے راستے میں آنے والی آزمائشیں ایمان کو مزید نکھار دیتی ہیں۔ 🔹 ...

سیرتِ رسول ﷺ – باب 12: قریش کی سازشیں اور رسول اللہ ﷺ کو پیش کی جانے والی پیشکشیں

Image
 جب قریش نے دیکھا کہ ظلم، تشدد اور دباؤ کے باوجود اسلام کی دعوت رکنے کے بجائے پھیلتی جا رہی ہے تو انہوں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی۔ اب انہوں نے لالچ، مفاہمت اور سازش کا راستہ اختیار کیا تاکہ رسول اللہ ﷺ کو دعوتِ حق سے باز رکھا جا سکے۔ 🔹 قریش کی بدلتی حکمتِ عملی ابتدا میں قریش نے: مذاق اُڑایا الزامات لگائے مظالم ڈھائے مگر جب یہ سب ناکام ہوا تو انہوں نے سوچا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح راضی کر لیا جائے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ 🔹 دنیاوی پیشکشیں قریش کے سرداروں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کئی بڑی پیشکشیں رکھیں: بے پناہ مال و دولت مکہ کی سرداری اور اقتدار سب سے خوبصورت عورتوں سے شادی بیماری کی صورت میں علاج ان سب کا مقصد صرف ایک تھا: اسلام کی دعوت کو ختم کرنا۔ 🔹 رسول اللہ ﷺ کا دوٹوک جواب رسول اللہ ﷺ نے ان تمام پیشکشوں کے جواب میں فرمایا: اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں، تب بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑوں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے غالب کر دے یا میں اس راہ میں جان دے دوں۔ یہ جواب حق پر استقامت کی تاریخ ساز مثال ہے۔ 🔹 قرآن کے ذریعے مقابلہ قریش نے ...

سیرتِ رسول ﷺ – باب 11: حبشہ کی طرف ہجرت

Image
 مکہ مکرمہ میں قریش کے مظالم جب حد سے بڑھ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ایک ایسے خطے کی طرف ہجرت کی اجازت دی جہاں عدل و انصاف کا نظام قائم تھا۔ یہ ہجرت اسلام کی تاریخ میں ایک نہایت اہم اور حکمت بھرا قدم ثابت ہوئی۔ 🔹 ہجرت کی اجازت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حبشہ میں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے یہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔ اس فرمان کی بنیاد پر کچھ مسلمانوں نے حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا۔ 🔹 پہلی ہجرت یہ اسلام کی پہلی ہجرت تھی۔ اس قافلے میں مردوں اور عورتوں سمیت کئی صحابہؓ شامل تھے۔ اس ہجرت کا مقصد: جان و ایمان کی حفاظت ظلم سے نجات آزادی کے ساتھ دین پر عمل تھا۔ 🔹 قریش کا تعاقب قریش نے مسلمانوں کی واپسی کے لیے اپنے نمائندے حبشہ بھیجے تاکہ بادشاہ کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جائے۔ انہوں نے تحائف پیش کیے اور مسلمانوں پر مختلف الزامات لگائے۔ 🔹 حضرت جعفرؓ کی تاریخی تقریر نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اسلام کا تعارف کروایا اور فرمایا کہ: ہم جاہلیت میں مبتلا قوم تھے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سچائی، امانت اور پاکیزگی کی تعلیم دی پھر انہوں نے سورۂ مریم ک...

سیرتِ رسول ﷺ – باب 10: قریش کی مخالفت اور ابتدائی مظالم

Image
 جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت علانیہ طور پر پیش کی تو قریش کو اپنے اقتدار، رسم و رواج اور معاشی مفادات خطرے میں نظر آنے لگے۔ اسی خوف نے انہیں شدید مخالفت اور ظلم پر آمادہ کر دیا۔ 🔹 مخالفت کی وجوہات قریش کی مخالفت کے چند بڑے اسباب یہ تھے: بت پرستی کے نظام کو خطرہ قبائلی سرداری کے ختم ہونے کا اندیشہ خانۂ کعبہ سے وابستہ معاشی مفادات مساوات اور توحید کا پیغام یہ سب باتیں قریش کے لیے ناقابلِ قبول تھیں۔ 🔹 کمزور مسلمانوں پر مظالم قریش نے خاص طور پر ان مسلمانوں کو نشانہ بنایا جو کمزور تھے: غلام عورتیں بے سہارا افراد انہیں سخت اذیتیں دی گئیں تاکہ وہ اسلام چھوڑ دیں۔ 🔹 حضرت بلالؓ کی استقامت حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کو تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھے جاتے اور کہا جاتا کہ اسلام چھوڑ دو، مگر ان کی زبان پر صرف ایک ہی لفظ ہوتا: اَحَد، اَحَد یہ استقامت ایمان کی عظیم مثال ہے۔ 🔹 حضرت سمیہؓ کی شہادت حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا، جو اسلام کی پہلی شہیدہ ہیں، نے شدید اذیتوں کے باوجود ایمان نہیں چھوڑا اور حق کی راہ میں اپنی جان قربان کر دی۔ ان کی شہادت نے اسلام کی تاریخ میں صبر و قربان...

سیرتِ رسول ﷺ – باب 9: علانیہ دعوتِ اسلام اور صفا کی پہاڑی پر اعلان

Image
 خفیہ دعوت کے تین برس مکمل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو حکم ملا کہ اب علانیہ طور پر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے۔ یہ مرحلہ دعوتِ اسلامی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ 🔹 علانیہ دعوت کا حکم اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ) اس حکم کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے لوگوں کو کھلے عام دعوت دینا شروع کی۔ 🔹 صفا کی پہاڑی پر اعلان رسول اللہ ﷺ صفا کی پہاڑی پر تشریف لے گئے اور قریش کے مختلف قبائل کو آواز دی۔ جب سب جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات مانو گے؟ سب نے جواب دیا: ہم نے آپ کو کبھی جھوٹا نہیں پایا۔ یہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی صداقت کو بنیاد بنا کر فرمایا: میں تمہیں ایک بڑے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی عبادت کرو۔ 🔹 ابو لہب کی مخالفت اس اعلان کے بعد سب سے سخت ردِعمل ابو لہب کی طرف سے آیا، جس نے کہا: کیا اسی بات کے لیے ہمیں جمع کیا تھا؟ اسی موقع پر سورۂ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ نازل ہوئی، جو قیامت تک ا...

سیرتِ رسول ﷺ — باب 8 ابتدائی دعوتِ اسلام اور خفیہ تبلیغ

Image
 پہلی وحی کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعوتِ اسلام کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس نازک مرحلے میں حکمت اور تدبر کے ساتھ دعوت کا آغاز کیا گیا تاکہ پیغامِ حق محفوظ انداز میں لوگوں تک پہنچ سکے۔ 🔹 خفیہ دعوت کا آغاز ابتدائی تین برسوں تک رسول اللہ ﷺ نے خفیہ طور پر اسلام کی دعوت دی۔ اس حکمت کی وجہ یہ تھی کہ مکہ کا ماحول شدید مخالفت اور بت پرستی سے بھرا ہوا تھا۔ کھلی دعوت سے قبل مضبوط ایمان والے افراد تیار کرنا ضروری تھا۔ 🔹 سب سے پہلے ایمان لانے والے اس خفیہ دور میں چند عظیم ہستیاں ایمان لائیں، جن میں: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ یہ حضرات اسلام کے اولین ستون بنے اور بعد میں دعوت کے پھیلاؤ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 🔹 دارِ ارقم کی اہمیت خفیہ دعوت کے لیے مکہ میں دارِ ارقم کو مرکز بنایا گیا۔ یہاں: قرآن کی تعلیم دی جاتی نماز کی تربیت ہوتی ایمان مضبوط کیا جاتا یہ مقام اسلام کی ابتدائی تربیت گاہ تھا جہاں سے مضبوط اور باکردار مسلمان تیار ہوئے۔ 🔹 ایمان کی مضبوط بنیاد اس دور میں زور: توحید آخرت اخلا...

سیرتِ رسول ﷺ – باب 7: پہلی وحی اور نبوت کا آغاز

Image
 اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے حضرت محمد ﷺ کو نبی منتخب فرمایا۔ نبوت کا آغاز ایک عظیم اور فیصلہ کن واقعے سے ہوا، جس نے تاریخِ انسانی کا رخ بدل دیا۔ 🔹 غارِ حرا میں عبادت بعثت سے قبل رسول اللہ ﷺ تنہائی کو پسند فرماتے تھے۔ آپ ﷺ مکہ مکرمہ کے قریب غارِ حرا میں تشریف لے جاتے اور کئی کئی دن عبادت، غور و فکر اور دعا میں گزارتے۔ آپ ﷺ باطل رسوم سے بیزار تھے اور سچ کی تلاش میں رہتے تھے۔ 🔹 پہلی وحی کا نزول چالیس برس کی عمر میں، رمضان المبارک کی ایک مبارک رات، اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضرت جبریل علیہ السلام غارِ حرا میں تشریف لائے اور فرمایا: اِقْرَأْ (پڑھیے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَا أَنَا بِقَارِئٍ (میں پڑھنے والا نہیں ہوں) تین مرتبہ یہ کیفیت پیش آئی، پھر حضرت جبریلؑ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیات نازل کیں: اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (سورۂ علق: 1–5) یہی وہ لمحہ تھا جب نبوتِ محمدی ﷺ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ 🔹 خوف اور حضرت خدیجہؓ کا کردار وحی کے بعد...